170

بھارت کی مسلم لڑکی نے وہ کارنامہ کر دکھایا جو بہت سے ارب پتی بزنس مین بھی نہیں کر پائے

تسنیم اسلم نے اعلیٰ تعلیمی ریکارڈ کی بناء پر امارات کا 10 سالہ گولڈن ویزہ حاصل کر لیا

متحدہ عرب امارات نے مملکت میں سرمایہ کاری میں اضافہ ، باہنر ، ٹیلنٹڈ اور قابل افراد کی گنتی بڑھانے کی خاطر خاطر گزشتہ سال گولڈن ویزہ کا اجراء شروع کیا تھا۔ اس کی بدولت ہی افراد کو اقامہ دائمہ ملتا ہے- انہیں اور ان کے اہل خانہ کو غیر معمولی مراعات حاصل ہوتی ہیں۔اس ویزے کا دُنیا بھر میں بہت چرچا ہے، تاہم اسے حاصل کرنے کے لیے بہت سی اہم شرائط پوری کرنا پڑتی ہیں۔اس وجہ سے اب تک دُنیا بھرمیں سے چند ہزار افراد ہی یہ پانچ یا دس سالہ رہائشی ویزہ حاصل کر پائے ہیں۔ تاہم بھارت کی مسلم لڑکی نے امارات کا گولڈن اقامہ اپنی اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کی بناء پر حاصل کر لیا ہے۔ بھارتی ریاست کیرالا کی طالبہ تسنیم اسلم کو ممتاز طالبات کے زمرے میں یہ دس سالہ ویزہ دیا گیا ہے جس کے بعد اب وہ 2031ء تک امارات میں قیام کر پائے گی۔اس شاندار کامیابی پر تسنیم نے کہا کہ گولڈن ویزہ حاصل کرنا میری زندگی کا بہترین لمحہ ہے جس پر میں اللہ تعالیٰ کی شکر گزار ہوں اور اس کامیابی پر بے پناہ فخر محسوس کر رہی ہوں۔ اس کامیابی میں میرے گھر والوں کی مدد مجھ پر ان کا بڑا احسان ہے۔ تسنیم اسلم قرآن کریم کی حافظہ ہیں اور اسلامی فقہ ان کا کا خصوصی مضمون ہے۔ انہوں نے شارجہ کی القاسمیہ یونیورسٹی میں اسلامی علوم کے امتحانات میں امتیازی نمبر حاصل کرتے ہوئے 72 ممالک کے سٹوڈنٹس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

 مسلسل چار سال تک وہ امتحانات میں 400 میں سے 395 نمبر حاصل کرتی رہیں۔ ان کا سارا تعلیمی کیریئر شاندار ہے۔ تسنیم کے والد نے بھی اپنی بیٹی کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے جو شارجہ میں اپنا پبلشنگ سنٹر چلاتے ہیں۔ تسنیم بھی اس کاروبار میں ان کا ساتھ نباہتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک تجارتی ادارے کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی دیکھتی ہے۔واضح رہے کہ چند روز قابل پہلی بار ایک بالی وڈ اداکار سنجے دت بھی امارات کا گولڈن ویزہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ سنجے دت بالی وڈ کے صف اول کے پہلے اداکار ہیں جنہوں نے یہ رہائشی ویزہ حاصل کیا ہے۔ سنجے دت کو گولڈن ویزہ GDRFA-Dubai کے ڈائریکٹر جنرل ، میجر جنرل محمد احمد المری نے خود پیش کیا۔ یو اے ای گولڈن ویزہ حاصل کرنے کی اطلاع اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے دی ہے۔جس میں انہوں لکھا ہے ”میں امارات کا گولڈن ویزہ جنرل ڈائریکٹوریٹ فار ریزیڈنسی اینڈ فارن افیئرز دُبئی کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل محمداحمد المری کی جانب سے حاصل کرنا اپنے لیے بہت اعزاز سمجھتا ہوں۔“ انہوں نے گولڈن ویزہ کے حصول میں مدد فراہم کرنے پر فلائی دُبئی کے حماد عبید اللہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔ اماراتی حکومت نے 2019ء میں گولڈن ویزہ رہائشی اسکیم کا اعلان کیا تھا ۔ جس کے باعث غیر ملکیوں کو یہاں رہائش اختیار کرنے، ملازمت اور کاروبار کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر ہوتے ہیں۔ اس ویزہ کے حاصل کرنے والوں کو کسی اماراتی سپانسر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ گولڈن ویزہ پانچ یا دس سال کی مُدت کے لیے جاری کیا جاتا ہے جس کی مُدت میں توسیع بھی کروائی جا سکتی ہے۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں