158

تمباکو نوشی کے معاملے میں کویت خلیجی ممالک میں پہلے نمبر پر آ گیا

تمباکو نوشی کے معاملے میں کویت خلیجی ممالک میں پہلے نمبر پر، 39.9 فیصد مرد جبکہ 3 فیصد خواتین تمباکو نوشی کرتی ہیں۔ دیگر خلیجی ریاستوں کےمقابلے میں سگریٹ کی قیمتیں کویت میں سب سے کم ہیں: سروے رپورٹ

تفصیلات کے مطابق کویت تمباکو نوشی کی شرح کے لحاظ سے خلیج میں پہلے نمبر پر ہے۔ ملک میں 39.9 فیصد مرد جبکہ تین فیصد خواتین تمباکو نوشی کرتی ہیں جسے روزنامہ الجریدہ نے وزارت صحت سے ڈاکٹر امل الیحییٰ کے حوالے سے رپورٹ کیا۔ تمباکو ڈے 2021 کے موقع پر کویت سوسائٹی برائے تمباکو نوشی اور کینسر کنٹرول کے حوالے سے حال ہی میں منعقدہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر امل الیحییٰ نے محکمہ صحت کے فروغ کے ذریعہ کئے گئے ایک مطالعے کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک تمباکو نوشی کرنے والوں میں تمباکو نوشی شروع کرنے کی اوسط عمر 17 سال ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کچھ بچے آٹھ سال کی عمر میں سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں اور یہ بہت خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2016ء میں نوعمروں پر کیے گئے ایک سروے کے نتائج سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ نو عمر افراد (13-15 سال) میں تمباکو نوشی کی شرح 24 فیصد جبکہ خواتین 08 فیصد ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ خواتین میں تمباکو نوشی کی تین فیصد شرح صرف سگریٹ پینے کے لئے ہے اگر ہم تمباکو کی دیگر اقسام جیسے شیشہ(حقہ) کو بھی شامل کریں تو شرح پانچ فیصد تک پہنچ جائے گی اور اگر الیکٹرانک سگریٹ کو بھی مدنظر رکھا جائے تو اس میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ کویت میں سگریٹ کی قیمتیں خلیج تعاون کونسل ممالک (جی سی سی) ک مقابلے سب سے سستی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کویت میں سگریٹ نوشی کی سالانہ لاگت KD481 ملین ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ تمباکو نوشی ہر 100،000 مردوں میں سے 49 کی موت کا سبب بنتی ہے جو کہ جی سی سی ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ “ہم نے ان پچھلے 10 سالوں میں جن درجہ بندی کی پیروی کی ہے اس کے مطابق کویت ریاست میں سگریٹ نوشی بیماری اور قبل از وقت اموات کے لئے ایک خطرہ ہے۔

انہوں نے انسداد تمباکو نوشی اور کینسر ایسوسی ایشن کے تعاون سے وزارت اوقاف اور اسلامی امور کی تصدیق کرتے ہوئے گذشتہ جمعہ کے خطبہ میں تمباکو نوشی کی لعنت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے تمباکو کی مصنوعات پر Selective ٹیکس قانون لاگو کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جس کی وجہ سے خاص طور پر نوجوانوں کی سگریٹ نوشی میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔

ذرائع: کویت اردو نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں