156

اماراتی حکومت نے مشکوک ملکیت والی کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کر دیا

30 جون تک تمام کمپنیوں کو اپنے اصل مالکان کی شناخت ظاہر کرنا ہو گی، اس کارروائی کا مقصد منی لانڈرنگ پر قابو پانا ہے

متحدہ عرب امارات نے منی لانڈرنگ پر قابو پانے کے لیے مشکوک ملکیت والی کمپنیوں کو وارننگ جاری کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق امارات میں 30 جون تک تمام کمپنیوں کو اپنے اصل مالکان کی شناخت ظاہر کرنا ہوگی۔ یہ الٹی میٹم عرب امارات کی وزارت معیشت میں اینٹی منی لانڈرنگ ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر صفیہ الصفی نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران دیا ہے۔اُردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق صفیہ الصفی نے خبردار کیا کہ جو کمپنیاں جولائی کے آغاز تک اپنے اصل مالکان کی شناخت ظاہر نہیں کرتیں ان پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ صل مالکان کے بارے میں تفصیلات سرکاری کمپنیوں یا عوامی تجارت کے اداروں کے علاوہ تمام کمپنیوں کے لیے ضروری ہیں۔

امارات نے دنیا بھر میں ریگولیٹری اداروں کی جانچ پڑتال کے دوران منی لانڈرنگ کے خلاف سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے قانون سازی کی ہے امارات کے سینٹرل بینک نے رواں برس یکم فروری کو انسداد منی لانڈرنگ پالیسی کی پابندی نہ کرنے پر 11 بینکوں پر پابندیاں عائد کیں تھیں۔ان بینکوں کو منی لانڈرنگ، دہشتگردی کے لیے فنڈنگ اور غیر قانونی تنظیموں کی اعانت کے انسداد کے قانون کی خلاف ورزی پر چار کروڑ 57 لاکھ 50 ہزار درہم کے جرمانے کیے گئے تھے۔جرمانوں میں اس بات کو مدنظر رکھا گیا تھا کہ متعلقہ بینک منی لانڈرنگ سے نمٹنے کی بابت مقرر معیار کو پورا کرنے میں ناکام رہے تھے۔اماراتی سینٹرل بینک نے ملک میں موجود تمام بینکوں کو خامیاں دور کرنے کے لیے مہلت دی تھی۔بینکوں سے کہا گیا تھا کہ وہ قواعد و ضوابط کی پابندی میں موجود خامیوں کو دور کر لیں۔اماراتی سینٹرل بینک کے مطابق ’وہ تمام مالیاتی اداروں کو منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی فنڈنگ کے انسداد سے متعلق اعلی ترین معیاری ضوابط کا پابند بنانے اور ان پر مزید انتظامی اور مالیاتی پابندی عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔‘ 

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں