59

سیسیلین مافیا کے سربراہ کو جیل سے رہا کردیا گیا

اٹلی کی سیسیلین مافیا کے سربراہ کو جیل سے رہا کردیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انسانوں کا قصاب کہلائے جانے والے سیسیلین مافیا کے سربراہ جویوانی بارسکا کو 25 سال بعد رہا کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ جویوانی بارسکا نے 100 سے زائد افراد کے قتل کا اعتراف کیا تھا جس میں اس نے ایک بچے کی لاش پر قتل کے بعد تیزاب بھی ڈالا تھا تاہم بعد ازاں اس نے گرفتاری کے بعد اپنے ساتھیوں کی گرفتاری میں مدد دینا شروع کردی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 64 سالہ بارسکا نے 1992 میں اٹلی کی مافیا کے خلاف تفتیش کرنے والے اہم جج کا بم دھماکے کے ذریعے قتل کیا تھا جسے ملک کے اہم ترین قتل کیس کی حیثیت سے جانا جاتا ہے، اس دھماکے میں جج کی اہلیہ اور تین محافظ مارے گئے تھے جب کہ بارسکا نے اس بم دھماکے کے لیے 500 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا تھا جسے جج کی گزرگاہ کے قریب رکھا گیا تھا۔

سیسیلین مافیا کے سربراہ نے جج کے قتل کے 2 ماہ بعد ان کے ایک اور ساتھی کو قتل کیا جس کے بعد اٹلی میں مافیاؤں کے خلاف سخت نئے قوانین نافذ کیے گئے۔

برسکا نے دوران تفتیش 100 افراد کے قتل کا اعتراف کیا تھا جس بنا پر اسے انسانوں کا قصاب کہا جاتا ہے، اس کی وارداتوں میں سب سے لرزہ خیز واردات 11 سالہ کمسن کا قتل اور اس کی لاش کو تیزاب سے مسخ کرنا تھا جس کے لیے اس نے پہلے اس لڑکے کو اغوا کیا اور تشدد کے بعد گلہ دبا کر قتل کیا جب کہ اس کی لاش کو تیزاب سے بری طرح مسخ کردیا۔

برسکا کو 1996 میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد وہ سزا میں کمی کی صورت میں وعدہ معاف بن گیا اور اس نے مافیاؤں کے خلاف کریک ڈاؤن میں تفتیش کاروں کی مدد کرنا شروع کردی۔

بارسکا کو 4 سال کے لیے پیرول پر رکھا گیا ہے اور اس کی جیل سے رہائی پر اس کے جرائم سے متاثرہ خاندنوں نے سخت تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع: جیو نیوز اردو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں