143

سعودی عرب میں چند صورتوں میں انسانی اعضاء عطیہ کرنا ممنوع ہو گا

انسانی اعضاء کے غیر قانونی عطیہ پر 5 لاکھ ریال جرمانہ ہوگا، اعضاء کی خرید و فروخت کی بھی ممانعت ہے

سعودی عرب میں انسانی اعضاء کے عطیہ کرنے کی اجازت ہے تاہم اسے سرکار کے علم میں لانا ضروری ہے۔ مملکت میں انسانی اعضاء کو رقم کے حصول کے لیے فروخت کرنا یا کسی کی مجبوری سے فائدہ اُٹھا کر اس سے رقم کے عوض کوئی عضو حاصل کرنا قانونی طور پر سنگین جرم ہے، جن کی سخت سزا دی جاتی ہے۔العربیہ نیوز کے مطابق سعودی عرب میں استغاثہ نے خبردار کیا ہے کہ کئی صورتوں میں انسانی اعضاء دوسروں کو عطیہ کرنا ممنوع ہے۔ساتھ ہی باور کرایا گیا ہے کہ مملکت میں انسانی اعضاء کے عطیے کے نظام کی خلاف ورزی پر مالی جرمانہ 5 لاکھ ریال تک ہے۔استغاثہ کے مطابق اگر عطیہ کیا جانے والا عضو عطیہ کنندہ کی زندگی کے لیے لازم ہے یا اس عضو کا عطیہ عطیہ کنندہ کی موت کا سبب بن سکتا ہو یا عطیہ کنندہ کی روز مرہ کے معمولات انجام دینے میں مانع بن جائے تو ایسی صورت میں عضو کا عطیہ منع ہو گا۔مزید یہ کہ اگر انسانی عضو کی منتقلی کی ذمے دار طبی ٹیم کا غالب گمان یہ ہو کہ دوسرے شخص کو عضو کی پیوندکاری کا آپریشن کامیاب نہیں ہو گا یا پھر کسی شخص نے یہ وصیت کر دی ہو کہ وفات کے بعد اس کا کوئی عضو عطیہ نہ کیا جائے تو ایسی صورت میں بھی عطیے کی اجازت نہیں ہو گی۔استغاثہ نے باور کرایا کہ عطیے کے واسطے کسی بھی عضو کا جسم سے علاحدہ کرتے ہوئے عطیہ کنندہ کی عزت نفس کا خیال رکھنا اور اسے کسی بھی قسم کی پراگندگی یا اہانت سے بچانا واجب ہے۔اسی طرح عطیہ کنندہ کے جسم سے متعلق کسی بھی معلومات کا اِفشا کرنا بھی عام حالات میں ممنوع ہو گا۔استغاثہ کے مطابق متعلقہ نظام کی خلاف ورزیوں کے ارتکاب کی صورت میں مجرمانہ تفتیش اور تحقیق کی ذمے دار استغاثہ ہو گی۔واضح رہے کہ چند روز قبل خادم حرمین شریفین سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی اپنے اعضاء وفات کے بعد عطیہ کرنے کی وصیت کردی ہے۔ ان کے اس اقدام کو سعودی عوام نے بہت سراہا ہے اور اُمید ظاہر کی ہے کہ انسانی ہمدردی کے تحت اعضاء عطیہ کرنے کے اعلان سے دیگر لوگوں کو بھی ایسا کرنے کی نیک ترغیب ملے گی۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں