173

سعودی عرب کی آبادی ساڑھے تین کروڑ سے بڑھ گئی

غیر ملکیوں کی گنتی ایک کروڑ 25 لاکھ کے لگ بھگ ہے اور مقامی افراد کی گنتی سوا 2 کروڑ کے قریب ہے

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا کیا گیا ہے کہ سال 2020 کی پہلی ششماہی کے آخر تک مملکت کی آبادی تین کروڑ 50 لاکھ کی سطح سے تجاوز کر گئی۔رپورٹ میں سعودی عرب کی مقامی اور مقیم افراد کی تعداد کو الگ الگ ظاہر نہیں کیا گیا۔ رپورٹوں میں 2018 کے بعد سے غیر ملکیوں کی تعداد ظاہر نہیں ہو سکی ہے۔العربیہ نیوز کے مطابق تین سال قبل سعودی عرب میں غیر ملکیوں کی تعداد ایک کروڑ 26 لاکھ سے زیادہ ہے جو کہ کل آبادی کا 38 فی صد بنتی ہے۔سوموار کے روز جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2016 کی مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر وسط سال 2020 تک 40 سال سے کم افراد کی تعداد 24،188،384 تک پہنچ گئی ہے جو کہ کل آبادی کا مجموعی طور پر 69.1 فی صد ہے۔سال 2019 کے وسط کے مقابلے میں اس میں 523،429 افراد کا اضافہ ہوا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب میں ایک بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔رپورٹ کے مطابق 15 سال سے کم عمر کے افراد کی تعداد میں 166،530 کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پندرہ سے 34 سال کی عمر کے افراد کی تعداد میں 255,501 کا اضافہ ہوا جس کے بعد اس عمر کے افراد کی مجموعی تعداد سال 2020 کے دوران 11,823,262 ہو گئی۔جو کہ کل آبادی کا 38 فی صد ہے۔محکمہ شماریات کے مطابق سعودیہ کی آبادی 2.3 فیصد سے بڑھ کر 35.01 ملین تک پہنچ گئی ہے۔مردوں کی آبادی 2 کروڑ 2 لاکھ 30 ہزار کے ساتھ 58فیصد بنتی ہے جبکہ خواتین کا تناسب 1 کروڑ 40 لاکھ 78ہزار کی گنتی کے ساتھ 42 فیصد بنتا ہے۔ 2019 کے وسط میں مملکت کی آبادی 34.22 ملین تھی۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں غیر ملکی تارکین کی گنتی کے لحاظ سے پاکستانی شہری سرفہرست ہیں، جن کی آبادی 26 لاکھ سے زائد ہے۔ 

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں