216

سعودی عرب میں بیٹے کے قاتل والد کا قصاص میں سرقلم

سعودی عرب میں وزارت داخلہ کےحکام کا کہنا ہے کہ 10 سالہ بچے عبداللہ السعودی کے قاتل اس کے والد 40 سالہ محمد بن عبداللہ بن حمد سویدی کا قصاص کے طور پر سرقلم کردیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ ملزم السویدی کا اپنی بیوی کے ساتھ کسی بات پر جھگڑا چل رہا تھا۔ اس نے بیوی سے انتقام لیتے ہوئے اپنے دس سالہ بچے کو ایک ویران مقام پر لے جا کر چاقو کے وار کرکے اسے قتل کر دیا تھا۔

ملزم نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا جس کے بعد عدالت نے اسے قصاص میں قتل کرنے کی سزا دی تھی۔

تفصیلات کے مطابق ملزم عبداللہ بن حمد سویدی نے اپنے 10 سالہ بچے کو اسکول سےچھٹی سے پہلے واپس لا کرایک ویران مقام پر منتقل کیا جہاں اسے چاقو سے وار کرکے قتل کردیا تھا۔

ملزم کو گرفتارکرکے فوج داری عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس نے اقرار جرم کیا۔ جرم ثابت ہونے پر اس کا سرقلم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ملزم نے سزا کے خلاف اپیل کی تھی مگر اپیل عدالت نے بھی فوجی عدالت کی سزا برقرار رکھی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ملزم نے اپنی بچی کو بھی اسی طرح دھوکے سے اسکول سے واپس لانے اور اسے قتل کرنے کی کوشش کی مگر اسکول انتظامیہ نے بچی اس کے ساتھ بھیجنے سے انکار کردیا تھا جس کے نتیجے میں بچی بچ گئی تھی۔

ذرائع: العربیۃ اردو نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں