95

سعودیہ میں مقیم پاکستانیوں کا کچھ شرائط پوری کیے بغیر فائنل ایگزٹ نہیں لگے گا

موبائل سمیت تمام بل کی ادائیگی ہونے کے بعد ہی فائنل ایگزٹ جاری ہوگا

سعودی عرب میں روزگار کی غرض سے 25 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں۔ جنہیں وقتاً فوقتاً بہت سے معاملات درپیش آتے ہیں۔ ان میں سے ایک معاملہ فائنل ایگزٹ کا بھی ہوتا ہے، جس سے متعلق تمام تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں، ورنہ عین وقت پر فائنل ایگزٹ کے اجراء میں دیر ہو جاتی ہے۔ سعودی محکمہ پاسپورٹ (جوازات) کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ جب تک تمام بلز اور حقوق کی ادائیگی مکمل نہ ہو جائے، فائنل ایگزٹ جاری نہیں ہوتا ہے۔اُردو نیوز کے مطابق جوازات نے بتایا ہے کہ فائنل ایگزٹ کے اجرا کے لیے ضروری ہے کہ تارکین اس کی شرائط پوری کرچکے ہوں۔ان شرئط میں یہ ہے کہ موبائل فون سمیت تمام بلز ادا کردیے گئے ہوں۔ سسٹم میں ان کے نام پر کوئی گاڑی اور کسی کا کوئی حق نہ ہو۔

غیرملکی کے نام سے ماضی میں کوئی غیر مستعمل ویزہ بھی ریکارڈ پر نہیں ہونا چاہیے۔محکمہ پاسپورٹ کا کہنا ہے کہ ’فائنل ایگزٹ اجرا کی تاریخ سے 60 دن تک موثر رہتا ہے۔اس دوران اسے مملکت سے سفر کرنا ضروری ہوتا ہے۔فائنل ایگزٹ ویزے کے اجرا کے لیے ضروری ہے کہ پاسپورٹ 60 روز کے لیے موثر ہو۔ اگر اس سے کم مدت کے لیے پاسپورٹ موثر ہے تو اس میں توسیع کرانا ہوگی۔ فائنل ایگزٹ کے اجرا کے بعد کفیل ھروب نہیں لگا سکتا۔ فائنل ایگزٹ میں 60 روز سے زیادہ کی توسیع نہیں ہوتی۔ فائنل ایگزٹ بیرون مملکت رہتے ہوئے جاری نہیں ہوسکتا اور یہ ویزہ بغیر فیس جاری کیا جاتا ہے۔محکمہ پاسپورٹ کے مطابق فائنل ایگزٹ ویزہ کفیل اپنے ابشر یا مقیم اکاوٴنٹ سے منسوخ کرسکتا ہے البتہ اسے منسوخی کی فیس ادا کرنا ہوگی جو سو ریال ہے۔ سفر کی صورت میں فائنل ایگزٹ منسوخ نہیں کیا جاسکتا، تاہم فائنل ایگزٹ پر جانے والا مملکت واپس آنے کے لیے نئے ویزے کی فوٹو کاپی لے کر جاسکتا ہے۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں