60

سعودیہ میں جازان اور راس تنورہ میں سینکڑوں کلوگرام منشیات پکڑ ی گئی

مملکت میں بڑے پیمانے پر چرس، قات اور نشہ آور گولیاں اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی

سعودی عرب ایک اسلامی ملک ہے جہاں پر شرعی قانون نافذ ہیں۔ اسلامی ملک ہونے کے ناتے یہاں شراب اور منشیات کے استعمال کی بھرپور ممانعت ہے اور ان ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ میں ملو ث افراد کا سر قلم کر دیا جاتا ہے۔ تاہم کچھ بدبخت ایسے بھی ہیں جو اس مقدس دھرتی کی حُرمت و پاکیزگی کا خیال نہیں رکھتے۔ مملکت میں منشیات منتقلی کی دو بڑی سرگرمیوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مشرقی ریجن کے علاقے راس تنورہ میں سعودی سرحدی محافظوں نے سینکڑوں کلو گرام چرس، قات اور ہزاروں نشہ آور گولیاں اسمگل کرنے کی الگ الگ کارروائیاں ناکام بنا دی ہیں۔ سعودی کوسٹ گارڈز کے ترجمان کرنل مسفر القرینی نے بتایا کہ راس تنورہ میں چرس اسمگل کرنے کی دو کوششیں ناکام بنائی گئی ہیں۔

پہلے واقعے میں 220 کلو گرام چرس پکڑی گئی جبکہ دوسرے واقعے میں 88 کلو گرام چرس اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی ہے۔اس کے علاوہ 23.7 ٹن قات بھی پکڑی گئی ہے۔ جازان میں بھی 14 ہزار نشہ آور گولیاں اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنائی گئی ہے۔ ان الگ الگ منشیات اسمگلنگ کی سرگرمیوں میں 12 اسمگلر گرفتار کیے گئے ہیں۔ جن میں سے 5 کا تعلق ایتھوپیا، 4 کا سعودی عرب اور 3 کا یمن سے ہے۔ تمام ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے انہیں سرکاری استغاثہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔جبکہ ان سے پکڑی گئی چرس، قات اور نشہ آور گولیاں بھی متعلقہ ادارے کو سونپ دی گئی ہیں جو انہیں نذر آتش کر کے تلف کر دے گا۔ واضح رہے کہ چند روز قبل بھی محکمہ انسداد منشیات نے ایک مقامی شہری کو منشیات اسمگلنگ اور منشیات فروشی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔سعودی محکمہ انسداد منشیات کے ترجمان محمد النجیدی نے بتایا کہ ایک مقامی شہری کو منشیات کی بڑی کھیپ کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزم کے بارے میں اطلاع ملی تھی کہ وہ مملکت میں منشیات فروشی کا دھندا وسیع پیمانے پر چلا رہا ہے۔ جس کے بعد اس کی نگرانی شروع کی گئی۔ بالآخر اسے منشیات کی بڑی کھیپ وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ 

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں