136

یورپی حسینہ سے رومانوی ملاقات کے چکر میں کمپنی کا مینجر لُٹ گیا

دُبئی میں نوسربازوں نے عرب شہری کے 30 ہزار درہم لُوٹ لیے

 امارات میں ایک کمپنی کا مینجرخوبرو یورپی حسینہ سے رومانوی ملاقات کے چکر میں عمر بھر کی پونجی گنوا بیٹھا۔ تفصیلات کے مطابق 40 سالہ عرب شہری کو آن لائن چیٹنگ کے دوران ایک خاتون نے رابطہ کیا ۔ اس نے اپنے آئی ڈی پر جو تصویر لگائی تھے اس سے وہ خوبصورت یورپی خاتون ظاہر ہو رہی تھی۔ خاتون اور عرب شہری کے درمیان رومانی جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے بعد ایک ہوٹل میں ملاقات طے ہوئی۔عرب شہری بڑے ارمانوں کے ساتھ اس ہوٹل میں پہنچ گیا اور حسینہ کے بتائے گئے کمرے کے باہر پہنچ گیا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اچانک اندر سے خوبصورت لڑکی کی بجائے تین افریقی مرد نکلے اورچند سیکنڈز کے اندر اسے پکڑ کر کمرے میں لے گئے۔ جہاں انہوں نے اس کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر اس سے اے ٹی ایم کارڈ کا پاس ورڈ لے کر اکاؤنٹ سے تیس ہزار درہم نکلوانے کے بعد اسے کمرے میں بند کر کے فرار ہو گئے۔جب پولیس کو اس واقعے کی اطلاع ملی تو ملزمان کی تلاش شروع ہو گئی۔ آخر دو افریقی نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا جو پہلے ہی مجرمانہ ریکارڈ کے حامل تھے۔ جن کی نشاندہی کے بعد باقی افریقی عورتیں اور ان کا مرد ساتھی بھی پکڑا گیا۔ عرب شخص نے بتایا کہ ان نوسربازوں نے اسے ’میٹ می‘ نامی ویب سائٹ پر جھانسہ دیا تھا۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ پہلے بھی دُبئی میں مقیم ایک پاکستانی مینجر کو گوری حسینہ سے تعلقات بنانے کی خواہش لے بیٹھی تھی۔یہ 40 سالہ پاکستانی باشندہ کئی ماہ کی جمع پونجی لُٹا بیٹھا تھا۔ خلیج ٹائمز کے مطابق پاکستانی مینجر کئی سالوں سے امارات میں ایک بڑے ادارے میں ملازمت کر رہا ہے۔ چند روز قبل اسے واٹس ایپ پر ایک پیغام موصول ہوا جس پرکسی انگریز حسینہ کی تصویر تھی۔ خاتون اس سے دل لگی کی باتیں کرتی رہی اور پھر اسے بتایا کہ اس کا دُبئی کے علاقے نائف میں اپنا مساج پارلر بھی ہے۔پھر اسے لُبھانے کی خاطر کہا کہ وہ اس سے بہت متاثر ہوئی ہے اور جلد از جلد ملنا چاہتی ہے۔ اگر وہ بھی ملاقات کی خواہش رکھتا ہے تو فوراً پہنچ جائے ۔ ’گوری حسینہ‘ کی خوبصورتی اور پیغام سے دل ہار بیٹھنے والا پاکستانی فوری طور پر اس کے بتائے گئے پتے پر پہنچ گیا۔ جو ایک رہائشی بلڈنگ کے اپارٹمنٹ کا تھا۔جب وہ اندر داخل ہوا تو اس کا استقبال ایک نائیجیرین خاتون نے کیا۔مینجر نے اس سے گوری حسینہ کے بارے میں پوچھا ہی تھا کہ اتنی دیر میں اندر والے کمرے سے تین افریقی مرد اور تین خواتین باہر آ گئے اور اسے قابو کر کے اس کے پرس سے اہم دستاویزات نکال لیں۔ متاثرہ پاکستانی مینجر نے بتایا”وہ مجھ سے میرے کریڈٹ کارڈ کا پاس ورڈمانگتے رہے، میرے انکار پر انہوں نے ناخنوں سے میرا سینہ کھُرچ ڈالا تو مجبوراً میں نے انہیں پاس ورڈ بتا دیا۔چند منٹوں کے اندر انہوں نے میرے اکاؤنٹ سے 40 ہزار درہم کی رقم نکال لی۔ اس کے باوجود مجھے اپارٹمنٹ میں 6 گھنٹے تک بند کیے رکھا اور پھر جانے کی اجازت دے دی مگر بٹوے میں موجود 500 درہم کی رقم بھی نکال کر مجھے واپس کر دیا۔ میں انتہائی خوفزدہ ہو کر فوراً پولیس اسٹیشن پہنچا اور ان نوسربازوں کے خلاف رپورٹ درج کروا دی۔“ پولیس نے ان افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ عدالت میں ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ملزمان مساج پارلر کی آڑ میں لوگوں کو ہراساں کر کے ان کی رقم لوٹ لیتے تھے۔ اکثر افراد بدنامی کے ڈر سے ان کے بارے میں رپورٹ نہیں کرواتے تھے۔ 

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں