175

”ٹیلی ویژن کے ذریعے ہر گھر میں اذان کی آواز پہنچ جاتی ہے، مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز کی آواز اونچی رکھنے کی ضرورت نہیں“

سعودی وزیر مذہبی امور عبداللطیف آل الشیخ نے لاؤڈ اسپیکرزکی آواز دھیمی رکھنے کی حمایت کر دی، لوگوں سے کہا کہ وہ نماز کے مقررہ وقت پر خود ہی مسجد پہنچ جایا کریں

سعودی عرب میں گزشتہ چند ہفتوں سے سوشل میڈیا پر مساجد کے بیرونی لاؤڈ اسپیکرز کے غیر ضروری استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جس کے بعد عوام کا یہ مطالبہ مان لیا گیا تھا ۔وزارت مذہبی امور نے سوشل میڈیا پر عوام کے مطالبے کے بعد ملک بھر کی مساجد میں نماز جمعہ کے سوا دیگر تمام نمازوں کے موقعے پر مساجد کے بیرونی لاوٴ اسپیکر زبند کرنے کا حکم دیا ہے۔عام نمازوں میں صرف اذان اور اقامت کے موقعے پر بیرونی لاوٴڈ اسپیکر استعمال کیے جاسکیں گے۔کچھ لوگوں نے اس فیصلے پر اعتراض کیا ہے تاہم سعودی وزیر مذہبی امور عبداللطیف آل الشیخ نے مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز کی آواز دھیمی رکھنے کی حمایت کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق عبداللطیف الشیخ نے مساجد میں لاوڈ اسپیکرز کی آواز کو کم کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نمازیوں کو اذان کی آواز کا انتظار کرنے بجائے مقررہ وقت پر مسجد پہنچ جانا چاہیئے۔غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطابق عوامی شکایات کے بعد سعودی عرب میں مساجد کو لاوڈ اسپیکر کے والیم کو زیادہ سے زیادہ حد کے ایک تہائی تک رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔انہوں نے اپنے جاری ویڈیو بیان میں فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نمازیوں کو اذان کی آواز کا انتظار کرنے بجائے مقررہ وقت پر مسجد پہنچ جانا چاہیئے۔مذہبی امور کے وزیر نے مزید کہا کہ ٹیلی وژن کے ذریعے ہر گھر میں اذان کی آواز پہنچ جاتی ہے اور وقت دیکھنے کی سہولت بھی سب کے پاس ہے اس لیے بہت تیز آواز میں لاوڈاسپیکر کے استعمال کی ضرورت نہیں۔جس سے بچے اور بیمار بزرگوں کو پریشانی ہوتی ہے۔وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ مساجد کی انتظامیہ نے بیرونی لاوٴڈ اسپیکروں کے استعمال کے حوالے سے وضع کردہ طریقہ کار پر فوری طور پرعمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت مذہبی امور سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارم کے ذریعے مساجد میں لاوٴڈ اسپیکرکے استعمال کیحوالے سے جاری کردہ نئے احکامات پرعمل درآمد کی نگرانی کررہی ہے تاکہ نمازیوں کے خشوع وخضوع کی ہرممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں