198

اماراتی حکومت نے گرمیوں کے موسم میں کمپنیوں کو وارننگ جاری کر دی

کارکنان سے کھُلے آسمان تلے دوپہر کے ڈھائی گھنٹے کام کروانے پر پابندی ہوگی

متحدہ عرب امارات کا شمار دُنیا کے گرم ترین خطوں میں ہوتا ہے۔ جبکہ گرمی کے دِنوں میں تو یہاں کی دھرتی آتش فشاں کی طرح سے کھولنے لگتی ہے۔ امارات میں گزشتہ چند سالوں کے دوران ہر شعبے میں انقلابی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں جس سے یہاں کے مقامی باشندے اور غیر ملکی ملازمین کی فلاح و بہبود میں خاصی ترقی دیکھنے کو مِلی ہے۔گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی وزارت انسانی نے اعلان کر دیا ہے کہ 15 جون20 20ء سے کسی بھی ملازم سے دوپہر ساڑھے بارہ بجے سے لے کر سہ پہر 3 بجے تک کھلے آسمان تلے مزدوری نہیں کروائی جائے گی کیونکہ ان مہینوں میں شدت کی گرمی پڑتی ہے جس سے ملازمین کی صحت اور زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔جبکہ روزانہ کام کے اوقات صبح ، شام یا دونوں شفٹوں کے لئے آٹھ گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونے ہوں گے۔اگر کوئی کارکن 24 گھنٹوں کے دوران آٹھ گھنٹے سے زیادہ ڈیوٹی کرتا ہے تو اضافی وقت کو اوور ٹائم سمجھا جائے گا ، جس کے لئے اماراتی لیبرقوانین کے مطابق مزدور کو ادائیگی کی جانی لازمی ہو گی۔وزارت کا کہنا ہے کہ اس پابندی کامقصد کارکنوں کی جسمانی صحت کی حفاظت اور انہیں لو لگنے سے بچانا ہے۔ اس فیصلے کو لاکھوں ایسے ملازمین نے بہت خوشی کی نظر سے دیکھا ہے جو تعمیراتی شعبے سے منسلک ہونے کے سبب تپتی سڑتی دوپہروں میں کھْلے آسمان تلے کام کرنے پر مجبور ہیں۔واضح رہے کہ یہ پابندی ہر سال عائد کی جاتی ہے۔ اور اس پر وزارت محنت کی جانب سے سختی سے عمل درآمد کرایا جاتا ہے۔ وزارت انسانی وسائل کی جانب سے مملکت کے مختلف شہروں میں تفتیشی ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کنٹریکٹرز پر جرمانے بھی عائدکیے جاتے ہیں۔آج سے عائد ہونے والی اس پابندی کے حوالے سے تمام سرکاری اور نجی شعبوں کو ہدایات جاری کر گئی ہیں۔جبکہ جن شعبوں کے ملازمین کے لیے دوپہر کے ان اوقات میں کام کرنا لازمی ہے، ان پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہو گا۔تاہم ایسی کمپنیوں کے لیے لازمی ہو گا کہ وہ اپنے کارکنان کو گرمی سے بچانے کے لیے معیاری سہولیات فراہم کریں۔ سہولتیں مہیا نہ کرنے والی کمپنی پر فی کارکن کے حساب سے 5 ہزار درہم یا زیادہ کارکنوں کے کام کرنے پر 50 ہزار درہم تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔اس دوران میں کووِڈ-19 سے بچاوٴ کے لیے حفاظتی احتیاطی تدابیر کی پاسداری کی جانی چاہیے تاکہ اس وائرس کو پھیلنے سے روکاجاسکے۔اگر کسی کمپنی نے ممنوعہ اوقات میں اپنے کارکنان سے آؤٹ ڈور کام کروایا تو اس کی فائل معطل کر دی جائے گی یا پھر MOHRE کے کلاسیفیکیشن سسٹم میں اس کا سٹیٹس گھٹا دیا جائے گا۔ سزا کا انحصار خلاف ورزی کی نوعیت پر ہوگا۔ کمپنیاں ممنوعہ اوقات میں کام نہ کرنے سے متعلق احکامات اور ڈیوٹی شیڈول کو کام کی جگہ پر عربی کے علاوہ اس زبان میں بھی پرنٹ کی صورت میں چسپاں کریں گی، جن سے یہ کارکنان واقف ہوں گے۔وزارت انسانی وسائل نے تمام کمپنیوں کو تاکید کی ہے کہ وہ مشینوں اور دیگر آلات پر کام کرنے والے کارکنان کو حفاظتی سامان مہیا کرے تاکہ ان کا زیادہ سے زیادہ بچاؤ ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ قانون محنت سے متعلق سیفٹی پروٹوکولز پر بھی عمل کیا جائے ۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں