111

سعودی عرب نے ایک اور شاندار کارنامہ انجام دے دیا

نیوم میں ہوا کے ذریعے پینے کا صاف پانی پیدا کرنے کا پلانٹ تیار کر لیا گیا، مملکت بھر میں یہ منفرد مشینیں جلد نصب کر دی جائیں گی

سعودی عرب میں ماجد الفطیم پراپرٹی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو احمد جلال اسماعیل نے اپنے ٹویٹر اکاوٴنٹ پر ایک وڈیو پوسٹ کی ہے۔ وڈیو میں نیوم شہر میں ہوا سے پانی نکالنے کا عمل دکھایا گیا ہے۔وڈیو میں احمد جلال ہوا سے پینے کا صاف پانی تیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے نیوم شہر میں نصب ایک مشین کا استعمال کیا گیا۔مشین پر یہ عبارت تحریر ہے ” آپ کی ہوا آپ کا پانی”۔العربیہ نیوز کے مطابق احمد جلال اسماعیل نے باور کرایا کہ ہوای سے پانی نکالنے کی یہ جدید ترین ٹکنالوجی عن قریب ماجد الفطیم ٹاور میں بھی میسر ہو گی۔واضح رہے کہ سعودی عرب کے موجودہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان مملکت کو ایک اعتدال پسند ریاست بنانے کے عزم پر کاربند ہیں۔

اس مقصد کی خاطر انہوں نے سعودی خواتین پر صدیوں سے عائد بہت سی پابندیاں ختم کر کے انہیں سعودی مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا کرنے کی کوشش بھی کی ہیں۔سعودی خواتین معاشی شعبوں میں بھی اپنی قابلیت کا لوہا منوانے لگی ہیں۔

اپنی انہی معتدل اور ترقی پسند پالیسیوں کی وجہ سے سعودی ولی عہد عوام اور خصوصاً خواتین میں بہت مقبول ہیں۔ ان کے دور میں سعودی خواتین کو بہت سے حقوق اور سہولیات ہونے کی وجہ سے وہ مملکت کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار نبھا رہی ہیں اور اپنے گھرانوں کی کفالت کر کے خوشحالی میں اضافہ کر رہی ہیں۔عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے بھی خواتین کے لیے تیز ترین اصلاحات اور انہیں بڑی تعداد میں نوکریاں دینے پر سعودی حکومت کو بہت زیادہ سراہا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودیہ میں تیزرفتار اصلاحات کے نتیجے میں مزید خواتین معاشی شعبوں میں قدم رکھ رہی ہیں۔اس کے علاوہ کفالہ نظام میں بہتری لائی گئی ہے۔سعودی عرب میں اس وقت مقامی افرادی قوت میں خواتین کی تعداد 33 فی صد بڑھ چکی ہے۔اس سے پیداوار میں اضافے،ترقی اورگھریلو آمدن میں اضافے میں مدد ملے گی۔آئی ایم ایف کے مشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب میں بے روزگاری کی شرح کم ہورہی ہے۔اس نے یہ پیشین گوئی کی ہے کہ 2021ء میں سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 2.1 فی صد اور 2022ء میں 4.8 فی صد رہے گی۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سعودی عرب میں مشن نے مملکت کے کووِڈ-19 کی وَبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کو مثبت قراردیا ہے اور خواتین ورکروں کی تعداد میں 13 فی صد اضافے اور کاروباروں کی معاونت کے لیے مالی اقدامات کو سراہا ہے۔ سعودی شہریوں میں 2020ء کی دوسری سہ ماہی میں بے روزگاری کی شرح15.4فی صد ہوگئی تھی اور چوتھی سہ ماہی میں یہ کم ہوکر 12.6 فی صد رہ گئی تھی۔عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق سعودی عرب کو معاشی بحالی اور مزید شرح نمو کی حوصلہ افزائی کے لیے کم آمدنی والے گھرانوں پر سماجی تحفظ کے ضمن میں اخراجات کو بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی مدد سے اضافی قدری ٹیکس (ویٹ) کے اثرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔مشن کا کہنا ہے کہ پبلک سیکٹر میں سرمایہ کاری سے نئے شعبوں کی ترقی میں مدد مل سکتی ہے اور اس سے نئے نجی اداروں کے لیے مزید مواقع دستیاب ہوں گے۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں