97

سعودی وزارء کی جانب سے اگلے چند روز میں حج طریقہ کار کا اعلان کیا جائے گا

کورونا وائرس میں تبدیلی، پھیلاؤ اور کئی ممالک میں سست رفتار ویکسی نیشن کی وجہ سے حج طریقہ کار کے اعلان میں تاخیر ہو گئی ہے

دُنیا بھر کو کورونا وائرس کی وبا کا سامنا ہے۔ گزشتہ سال سعودی عرب میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے حج صرف مملکت میں مقیم افراد تک محدود کر دیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے حج کی سعادت حاصل کرنے کے منتظر لاکھوں پاکستانی عازمین کی اُمیدوں پر بھی اوس پڑ گئی تھی۔ اس بار بھی صورت حال کچھ واضح نہیں ہو پائی ہے کہ پاکستانیوں کو حج کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔اور اگر اجازت دی جاتی ہے تو یہ کتنے ہزار افراد تک محدود ہو گی۔سُننے میں یہی آیا ہے کہ پاکستان سے پچاس ہزار افراد حج کرنے جا سکیں گے تاہم اس حوالے سے ابھی سرکاری سطح پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ سعودی وزارت اطلاعات و نشریات ماجد القصبی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دُنیا بھر میں کورونا وائرس کی مختلف اقسام سامنے آنے، اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور کئی ممالک میں سست رفتار ویکسی نیشن عمل کی وجہ سے فی الحال حج کی پالیسی اور طریقہ کار واضح نہیں ہو سکا ہے۔تاہم اب جبکہ حج کی آمد میں وقت کم رہ گیا ہے، اس لیے اگلے چند روز میں وزیر صحت اور وزیر حج و عمرہ کی جانب سے حج کے طریقہ کار کا اعلان کر دیا جائے گا۔ جس سے گومگو کی کیفیت بھی ختم ہو جائے گی۔ دونوں وزارتوں کورونا وائرس کے باعث درپیش صورت حال کو سامنے رکھ کر ہی فیصلہ کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی حکومت کی پوری کوشش ہے کہ حج کی ادائیگی اس طرح سے ہوپائے کہ سعودی مملکت اور دیگر مسلم ممالک میں وائرس کا پھیلاؤ ممکن نہ ہو، ا س لیے بہت زیادہ سوچ بچار کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے صرف چار ویکسینز لگوانے والے افراد کو مملکت میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ ویکسینز فائزر، موڈرنا، آکسفورڈ کی ایسٹرا زینیکا اور جانسن اینڈ جانسن شامل ہیں تاہم پاکستان میں اس وقت سرکاری سطح پر صرف سائنو فام اور سائنو ویک ویکسینز لگائی جا رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں پھنسے سعودی ویزہ ہولڈرز کی مملکت جانے کی راہ ہموار نہیں ہو رہی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان سے عمرہ اور حج کے لیے جانے کے خواہش مندوں کی پریشانی بھی بڑھ رہی ہے کہ وہ سعودیہ کی منظور شدہ ویکسینز کہاں سے لگوائیں،جو پاکستان میں اگر دستیاب ہے بھی تو بہت مہنگے داموں لگائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب سائنوفام ویکسین لگوانے والوں کوسعودی مملکت میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر سعودیہ میں افرادی قوت کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے۔اس صورت حال پر سعودی حکام نے بھی سر جوڑ لیے ہیں اور عالمی ادارہ صحت سے رابطہ کیا ہے کہ سائنو فام ویکسین لگوانے والوں کو بھی سعودیہ میں داخلے کی اجازت ہونی چاہیے۔ 8 مئی کو عالمی ادارہ صحت چینی سائنو فام ویکسین کی افادیت کوتسلی کر لیا ہے جس کے بعد امکان پیدا ہو گیا ہے کہ سعودی حکام کی جانب سے سائنو فام کو بھی منظور شدہ ویکسینز کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا۔جس کے بعد پاکستان سمیت دیگر ممالک میں سائنو فام لگوانے والے افراد ملازمت، عمرہ اور حج کی ادائیگی کی خاطر سعودی عرب جا سکیں گے۔ پاکستان میں گزشتہ چار ماہ سے سائنو فام ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ریاض میں واقع پاکستانی سفارت خانے اور جدہ کے پاکستانی قونصل خانے کی جانب سے بھی سعودی حکام سے رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں سائنو فارم ویکسین منظور کرنے پر قائل کیا جا سکے۔اس معاملے میں پیش رفت ہونے کے بعد پاکستان میں سائنو فارم لگوانے والے سعودی عرب جا سکیں گے۔ سعودی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہی اقامہ ہولڈرز اور عمرہ و حج عازمین مملکت میں داخل ہو سکیں گے جنہوں نے منظور شدہ کورونا ویکسینز میں سے کوئی ایک ویکسین کے دونوں انجکشن لگوا رکھے ہوں یا پہلا انجکشن لگوائے ہوئے 14 روز گزر گئے ہوں۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں