135

سعودی شاپنگ مال میں سعودی نوجوان کی دو لڑکیوں کے ساتھ لڑائی کا واقعہ، درجنوں گرفتار ہو گئے

پولیس نے جھگڑے میں ملوث افرادکے علاوہ وہاں اکٹھے ہونے والے 13 افراد کو بھی کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پرگرفتار کیا ہے

سعودی عرب کے ایک معروف شاپنگ مال میں اس وقت پریشان کُن صورت حال پیدا ہو گئی جب ایک مقامی نوجوان کی دو لڑکیوں کے ساتھ کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی جس نے مار پیٹ کا رُخ اختیار کر لیا۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر بڑھ چڑھ کر حملے کیے گئے۔ اس جھگڑے کی وجہ سے آس پاس کافی لوگ بھی جمع ہو گئے ۔ پولیس نے ریاض کے اس معروف شاپنگ مال میں رونما ہونے والے جھگڑے میں ملوث تینوں افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن میں20 سالہ سعودی نوجوان اور دو لڑکیاں شامل ہیں۔ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے درمیان کس بات پر جھگڑا ہوا تھا۔ ریاض پولیس کے ترجمان میجر خالد الکریدیس نے بتایا ہے کہ معروف شاپنگ مال میں پیش آنے والے اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کر نے کے بعد ان پر مقدمے کا اندراج کر لیا ہے۔

جھگڑے میں ملوث افراد کے علاوہ ان 13 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ جو یہ جھگڑا دیکھنے کے لیے وہاں اکٹھے ہوگئے تھے۔حالانکہ کورونا ایس او پیز کے تحت کسی بھی مقام پر لوگوں کے اکٹھے ہونے پر ممانعت ہے۔ اس طرح یہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔ ان افراد کو بھی پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ کچھ روز قبل بھی جازان پولیس نے اسی احد المسارعہ کمشنری میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کرنے والی 109 خواتین کو گرفتار کر لیا تھا۔ ان خواتین کو کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کی وجہ سے حراست میں لیا گیاتھا۔پولیس کے ترجمان نایف عبدالرحمن حکمی نے بتایا کہ ایک شادی ہال میں شادی کی تقریب منعقد کر کے کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اُڑائی جا رہی تھیں۔ سعودی مملکت میں کورونا وبا کے باعث تمام تقریبات اور اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔ اس کے باوجود سینکڑوں افراد پر مشتمل اس شادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے واضح طور احکامات ہیں کہ شادی کی تقریب دس بیس قریبی لوگوں تک ہی محدود رہ سکتی ہے۔تاہم اس شادی ہال میں 109 خواتین جمع تھیں۔ انہوں نے ماسک بھی نہیں پہن رکھے تھے اور سماجی فاصلے کا بھی خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق حراست میں لی گئی خواتین کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ جبکہ شادی تقریب کے میزبان، مہمان اور شادی ہال کے منتظم کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ ان افراد پرفی کس 5 ہزار درہم کے حساب سے بھاری جرمانے عائد ہوں گے۔ درجنوں خواتین کا شادی کے لیے اجتماع کورونا کے موذی مرض کو کھُلی دعوت دینے کے مترادف تھا۔ اس معاملے میں کسی سے بھی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں