242

کویت: بطاقوں کی ڈلیوری میں تاخیر نے پبلک اتھارٹی برائے سول انفارمیشن PACI میں بحران کی طرف اشارہ کر دیا

سمارٹ کارڈز (بطاقوں) کی ترسیل میں تاخیر نے پبلک اتھارٹی برائے سول انفارمیشن(PACI) میں بحران کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پبلک اتھارٹی برائے سول انفارمیشن (PACI) شہریوں اور رہائشیوں دونوں کو نئے سول کارڈ جاری کرنے میں بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ روزنامہ القبس کی رپورٹ کے مطابق اس کا ثبوت PACI کا بطاقوں کی ڈلیوری کرنے والی کمپنی کے ساتھ معاہدے میں شہریوں اور رہائشیوں کو بطاقوں کی فراہمی میں تاخیر اور اس کے ساتھ بطاقے تیار کرنے کی تعداد میں کمی کی عکاسی کرتا ہے باوجود اس کے بہت سے افراد نے حکومت کویت سے منظورشدہ”My Identity” نامی ایپلی کیشن کا سہارا لیا ہوا ہے جو لین دین کو مکمل کرنے اور اپنی شناخت ثابت کرنے کے لئے اپریل 2020 میں شروع کی گئی تھی۔ روزنامہ نے مشاہدہ کیا کہ PACI سمارٹ کارڈز کی کمی کے معاملے میں پریشانی کا شکار ہے جس کی وجہ پرنٹنگ اور ڈلیوری میں تاخیر بتائی گئی ہے۔

روزنامہ کے باخبر ذرائع نے بتایا کہ سول شناختی کارڈ کی فراہمی کے لئے ذمہ دار کمپنی کو کم تعداد میں تیار شدہ کارڈز کے نتیجے میں کم آمدن کی وجہ سے اپنے آدھے نمائندگان کو نکالنا پڑا۔ وعدوں کی تکمیل میں ناکامی اور ان کے مالکان کو کارڈز کی فراہمی میں تاخیر کے نتیجے میں بھی الجھن پیدا ہوئی حالانکہ لوگ پہلے ہی ڈلیوری فیس ادا کر دیتے ہیں۔

ملک کے مختلف حصوں کا احاطہ کرنے کے لئے 70 نمائندوں کے ذریعہ بطاقوں کی یومیہ فراہمی کی اوسط شرح تقریبا 4،000 تھی تاہم کمپنی کو فی الحال اتنی تعداد میں نمائندوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کی بجائے تمام علاقوں میں ڈلیوری فراہم کرنے کے لئے تھوڑی سی تعداد کی ضرورت ہے۔ تیار شدہ کارڈز موجود ہیں جن کی ڈلیوری کے لئے درخواست کی گئی تھی اور ان کے جاری ہونے کے 48 گھنٹوں کے اندر ہی ان کارڈز کی ڈلیوری کو یقینی بنانا تھا تاہم 14 دن سے زیادہ گزر جانے کے بعد بھی ان کی پرنٹنگ نہ ہو پائی ہے۔ گذشتہ ادوار میں PACI کی جانب سے گھریلو ملازمین ، پانچ سال سے کم عمر کے بچوں اور آرٹیکل 17 ہولڈروں کے کارڈ کے ڈھیر کو ختم کرنے میں کامیابی کے باوجود کم پیداوار کی روشنی اور ڈلیوری میں تاخیر کی وجہ سے صورتحال ایک بار پھر سے پہلے جیسی ہو چکی ہے۔

اس تناظر میں اسٹیٹ آڈٹ بیورو نے 22 اپریل کو PACI کی سمارٹ سول کارڈ فارموں اور پیکیجنگ کی ضروریات کو خریدنے کے لئے ایک مقامی کمپنی سے 16 ملین اور 762 ہزار کویتی دینار کی رقم کے ساتھ تین سال کی مدت کے لئے معاہدہ کرنے کی درخواست کو منظور کیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ “My Identity” ایپلی کیشن کے ذریعہ بہت سارے لوگوں نے پلاسٹک کے سول کارڈوں سے کام لیا اور اطمینان کا اظہار کیا جس کو سرکاری اداروں اور بینکوں نے بھی تسلیم کیا ہے جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے لئے جو ایپلی کیشن کے زمرے میں نہیں آتے ان کے لئے شناختی کارڈ کی عدم دستیابی کا مسئلہ بدستور جاری ہے۔

ذرائع: کویت اردو نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں