212

سلطنت عمان میں کورونا کے بعد مہلک بلیک فنگس کے نئے کیسوں کا انکشاف

کورونا کے بعد اب مہلک بلیک فنگل انفیکشن نے عمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق سلطنتِ عمان نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ اس کے ڈاکٹروں نے امکانی طور پر کورونا وائرس کے مریضوں پر اثر انداز ہونے والے مہلک بلیک فنگل انفیکشن کا انکشاف کیا ہے اور وائرس سے شفایاب ہونے والوں کو ہی ایذا پہنچاتا ہے۔ سلطنتِ عمان کا مہلک بلیک فنگل کیس جزیرہ نما عرب پر اس طرح کے تین کیس ریکارڈ کیے گئے ہے۔ سلطنتِ عمان موجودہ صورتحال میں کوویڈ 19 انفیکشن میں غیر معمولی اضافے کا سامنا کررہا ہے جبکہ سلطنت کے اسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی تعداد تشویشناک صورتحال اختیار کرچکی ہے۔

عمان کے وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ عمان میں کوویڈ 19 کے تین مریض میوکورمائکوسس (بلیک فنگس) سے متاثر ہوچکے ہیں۔ یہ ایک جان لیوا خطرہ ہے جسے عام طور پر “کالا فنگس” کہا جاتا ہے جو سخت متاثرہ ہندوستان میں وائرس کے مریضوں میں تیزی سے پھیل چکا ہے تاہم یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ تینوں مریض کس حالت میں تھے۔ اگرچہ یہ بیماری نسبتا کم ہی ہے تاہم اس کے اچانک اضافے نے دنیا بھر میں کوویڈ 19 کے اضافے کا مقابلہ کرنے کے لئے جدوجہد کرنے والے ڈاکٹروں اور صحت کے عہدیداروں میں خوف پیدا کردیا ہے۔

عمانی ڈاکٹروں نے اس ہفتے کے اوائل میں واضح کر دیا تھا کہ سلطنت کو بیڈوں کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ صحت کے عملے نے ملک میں صحت کے بحران کی نشاندہی کردی تھی تاہم سخت میڈیا پالیسیوں کے ذریعے میڈیا کنٹرول کیا جاتا ہے لہٰذا ملک کی تشویشناک صحت کی صورتحال سے فوراً آگاہ نہیں کیا گیا۔ عمانی حکام نے بتایا کہ تغیر پذپر ڈیلٹا کورونا وائرس جس کا سب سے پہلے ہندوستان میں پتہ چلا تھا اب خلیجی ریاستوں میں داخل ہوچکا ہے۔

میوکورمائکوسس انسان کے بلغم سڑنے سے ہوتا ہے جو عام طور پر مٹی ، ہوا اور یہاں تک کہ انسانوں کی ناک اور بلغم میں پایا جاتا ہے۔ یہ سانس کے راستے سے پھیلتا ہے اور چہرے کے ڈھانچے کو ختم کردیتا ہے۔ بعض اوقات انفیکشن کو دماغ تک پہنچنے سے روکنے کے لئے ڈاکٹروں کو سرجری کے ذریعے آنکھ کو نکالنا پڑتا ہے۔ فنگل انفیکشن کمزور مدافعتی نظام اور خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کو اپنا شکار بناتا ہے۔ صحت عامہ کے ماہرین نے بھی اس کے پھیلاؤ کو زیادہ انسداد ادویات جیسے اسٹیرائڈز کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ قرار دیا ہے جو مدافعتی نظام کے ردعمل کو متاثر کرتے ہیں جبکہ ذیابیطس کے مریضوں کا اس مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔

ذرائع: کویت اردو نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں