150

اسلام کی محبت سے سرشار سعودی نوجوان نے قدیم روایت پر عمل کرنے کا اعلان کر دیا

سعودی شہری عثمان الشاہین نے عسیر سے مکہ تک حج کا سفر اُونٹ پر شروع کر دیا ہے

سعودی عرب میں قدیم زمانے میں سینکڑوں سالوں تک حج اُونٹ پر سفر کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ کیونکہ سعودی عرب کا سارا راستہ ریگستانی تھا۔ قدیم دور میں سڑکیں موجود نہ تھیں، صرف اونٹ ہی ایسا جانور تھا جو کئی روز تک ریگستان میں کچھ کھائے پیے بغیر ریت کے ٹیلوں کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ تاہم جدید دور میں بہترین سڑکیں بننے اور ٹرانسپورٹ کے جدید وسائل دستیاب ہونے کے بعد اب کوئی بھی اونٹ پر حج کرنے نہیں جاتا ہے۔کیونکہ ایسا کرنے میں کئی روز لگ جاتے ہیں، جبکہ گاڑیوں بسوں کے ذریعے یہ سفر چند گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے۔ البتہ ایک سعودی نوجوان نے بزرگوں کی حج کی قدیم روایت کو دُہرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سعودی میڈیا کے مطابق عسیر کے رہائشی سعودی نوجوان اونٹ پر سوارہو کر حج کے سفر پر روانہ ہو گیا ہے۔

الشاہین نے بتایا کہ وہ اونٹ پر حج کا سفر اس لیے کر رہا ہے تاکہ بزرگوں کی بھولی بسری یادوں کو تازہ کر سکے اور نئی نسل کو بھی پرانے دور کے لوگوں کے ایمان افروز جذبے سے واقفیت ہو سکے جو سخت موسم میں اللہ کی خوشنودی کی خاطر کئی روز کا سفر کر کے مکہ مکرمہ پہنچتے تھے۔الشاہین کا کہنا تھا کہ میں باحہ کے تاریخی راستے سے سفر کر کے حج کی خاطر مکہ مکرمہ پہنچوں گا۔ یہ راستہ ماضی میں ہاتھیوں کی شاہراہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ ہمارے بزرگ ہاتھیوں کی سواری کر کے حج کی ادائیگی کے لیے مکہ پہنچتے تھے۔ آغاز اسلام میں بھی اسی راہ سے حج کا سفر ہوتا تھا۔ میں نے اسی لیے قدیم روایت کو زندہ کرنے کی خاطر سعودی بدوؤں والا لباس زیب تن کر کے سفر شروع کیا ہے کہ مجھے اپنے بدو ہونے پر فخر ہے۔واضح رہے کہ سعودی وزارت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ حج کے لیے درخواستیں وصول کرنے کا آج آخری دن ہے۔آج رات دس بجے تک درخواستیں وصول کی جائیں گی۔ جبکہ ان لاکھوں افراد میں سے حج کے لیے منتخب ہونے والے 60 ہزار خوش نصیبوں کے ناموں کا اعلان25 جون بروز جمعة المبارک کیا جائے گا۔ اسی روز منتخب لوگوں سے حج اور متعلقہ پیکیج کی بکنگ کا مرحلہ بھی شروع ہو جائے گا۔وزارت حج و عمرہ کے مطابق اب تک ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد سعودی شہری اور غیر ملکی آن لائن حج درخواستیں دے چکے ہیں جن کا تعلق 150 ممالک سے ہے۔ درخواستیں جمع کروانے والوں میں 59 فیصد مرد جبکہ 41 فیصد خواتین ہیں۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں