248

دنیا کی سب سے چھوٹی گائے “رانی” نے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر لیا

بنگلہ دیش میں دنیا کی سب سے پست قامت گائے دنیا کی دلچسپی اور حیرت کا باعث بن گئی۔

بنگلہ دیش میں ہزاروں افراد ملک میں لگے لاک ڈاؤن کو نظرانداز کرتے ہوئے جوق در جوق دور دراز کے علاقوں سے 51 سینٹی میٹر دنیا کی سب سے پست قامت گائے “رانی” کو دیکھنے کے لئے آرہے ہیں جس کے مالک کا کہنا ہے کہ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کی سب سے چھوٹی گائے ہے۔ ڈھاکہ کے قریب ایک فارم پر درجنوں اخبارات اور ٹی وی چینلز نے اس چھوٹی گائے کی تصویریں اتار کر اور اخباروں کی سرخیوں میں اس کے حوالے سے لکھ کر اس 23 ماہ کی بونا گائے کو میڈیا اسٹار بنا دیا ہے۔ بنگلہ دیش میں کورونا وائرس کے انفیکشن اور اموات کی ریکارڈ تعداد کے باعث

ملک بھر میں نقل و حمل بند ہوگئی ہے اس کے باوجود لوگ ڈھاکہ سے جنوب مغرب میں چاریگرام کے فارم رکشہ میں سوار ہوکر آرہے ہیں۔ قریبی شہر سے آنے والی 30 سالہ رینا بیگم نے بتایا کہ “میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسی گائے کبھی نہیں دیکھی۔” رانی 66 سینٹی میٹر لمبی ہے اور اس کا وزن صرف 26 کلو گرام ہے لیکن اس کے پالنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ گینز بک آف ریکارڈز میں سب سے چھوٹی گائے سے 10 سینٹی میٹر چھوٹی ہے۔ شیکور ایگرو فارم کے منیجر حسن ہوادر نے

درجنوں شائقین کو یہ ظاہر کرنے کے لئے ایک ٹیپ پیمائش کا استعمال کیا کہ “رانی” اپنے قریبی حریف ہندوستان کی ریاست کیرالہ کی ایک گائے جو موجودہ عالمی ریکارڈ رکھتی ہے سے بھی چھوٹی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ “کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے عائد پابندی کے باوجود لوگ لمبی دوری کا سفر کرتے ہیں ان میں سے بیشتر رانی کے ساتھ سیلفیاں لینا چاہتے ہیں۔” انہوں نے مزید بتایا کہ گینز ورلڈ ریکارڈ کے عہدیداروں نے تین ماہ کے اندر فیصلہ سنانے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ

“پچھلے تین دن میں تقریباً 15000 سے زیادہ لوگ رانی سے ملنے آئے ہیں اور اگر سچ کہوں تو ہم تھک چکے ہیں۔ “گینز بک آف ریکارڈز نے اشارہ کیا ہے کہ جون 2014 میں فشور نسل کی “مانسیئم” کی اونچائی 61 سنٹی میٹر تھی اور “رانی” ایک بھوٹانی گائے ہے جو بنگلہ دیش میں اپنے گوشت کے لئے مشہور ہے اور کھیت میں اس نسل کی دیگر گائے کا سائز “رانی” سے دوگنا ہے۔ منیجر نے مزید کہا کہ

“ہمیں توقع نہیں تھی کہ ہم اس حوالے سے اتنی توجہ حاصل کریں گے۔” ہمیں نہیں لگتا تھا کہ صحت کی صورتحال خراب ہونے کے باوجود لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر “رانی” کو دیکھنے آئیں گے۔”

ذرائع: کویت اردو نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں