224

افغان طالبان کا ایران کے ساتھ اہم ترین سرحدی گزر گاہ پر کنٹرول

افغانستان میں طالبان تحریک نے ایران کے ساتھ اہم ترین سرحدی مرکز پر کنٹرول حاصل کر لینے کا اعلان کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے آج جمعے کے روز فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ “اسلام قلعہ کی سرحدی گزر گاہ مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں آ چکی ہے۔ ہم آج سے اسے دوبارہ فعال بنائیں گے”۔Play Video

مقامی میڈیا نے وڈیو کلپ جاری کیے ہیں جن میں طالبان عناصر کو ایران کے ساتھ دو سرحدی گزر گاہوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ “اسلام قلعہ” ملک کی اہم ترین سرحدی گزر گاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ افغانستان اور ایران کے درمیان تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

اہم ترین بات یہ ہے کہ ایرانی ایندھن اور گیس اسی راستے سے گزرتی ہے۔

اس سے قبل طالبان تحریک نے افغانستان اور تاجکستان کو جوڑنے والی سرحدی گزر گاہ پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ افغان حکومت نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ گزر گاہ پر تعینات فوجی تاجکستان کی اراضی کے اندر فرار ہو گئے۔

افغان سرحد پر اس صورت حال نے ماسکو اور دیگر ممالک کے دارالحکومتوں میں ان اندیشوں کو جنم دیا کہ وسطی ایشیا میں شدت پسندی کا پھیلاؤ شروع ہونے والا ہے۔

روس کا بیرون ملک سب سے بڑا فوجی اڈا تاجکستان میں افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع ہے۔ ماسکو نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر تاجکستان کی سرحد پر سیکورٹی کی صورت حال خراب ہوئی تو دو شنبہ حکومت کی مدد کی جائے گی۔

یاد رہے کہ افغانستان میں 20 برس جنگ کے بعد رواں سال مئی میں امریکی فوج کے انخلا کا آغاز ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی طالبان عناصر کی جانب سے حملے کیے جا رہے ہیں جو ملک کے سیکڑوں علاقوں کا کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ اس صورت حال نے متعدد ملکوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جن میں امریکا سرفہرست ہے۔ البتہ اس صورت حال نے امریکی فوج کے کوچ کے عمل کو متاثر نہیں کیا۔ امریکی صدر جو بائیڈن کل جمعرات کے روز یہ باور کرا چکے ہیں کہ انخلا کا عمل 31 اگست کو مکمل ہو جائے گا۔

ذرائع: العربیۃ اردو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں