314

ریاست ابوظبی میں آنے والوں پر نئی پابندیوں اعلان ہو گیا

دیگر اماراتی ریاستوں سے آنے والوں کو پی سی آر ٹیسٹ کی رپورٹ دکھانی ہو گی جو 48 گھنٹے سے زیادہ پرانی نہ ہو، چوتھے اور آٹھویں روز بھی ٹیسٹ کروانا ہوگا

اماراتی ریاست ابوظبی کی جانب سے 19 جولائی سے جزوی لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جو رات12 بجے سے صبح 5 بجے تک ہوگا۔ اس دوران ریاست بھر کے سرکاری دفاتر، عوامی مقامات اور دیگر جگہوں پر جراثیم کش محلول کا سپرے کیا جائے گا۔ رات کے ان اوقات میں لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں ہو گی اور ٹریفک بھی معطل رکھی جائے گی۔اس کے علاوہ دیگر ریاستوں سے آنے والوں پر بھی پی سی آر اور ڈی پی آئی ٹیسٹ سے متعلق شرائط میں سختی کر دی گئی ہے۔ابوظبی ایمرجنسی، کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر کمیٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ 19 جولائی بروز سوموار سے ابوظبی میں داخلے کے لیے کورونا ٹیسٹ کی شرائط میں تبدیلی کر دی گئی ہے، جس کا مقصد کورونا کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

کمیٹی کے مطابق دیگر ریاستوں سے ابوظبی آنے والوں کو انٹری پوائنٹس پر روک کر ان کی پی سی آر ٹیسٹ رپورٹ کی نیگیٹو رپورٹ چیک کی جائے گی۔ابوظبی داخلے کے وقت اس رپورٹ کو جاری ہوئے 48 گھنٹوں سے زائد وقت نہ گزرا ہو۔ ورنہ دوبارہ سے ٹیسٹ کروا کر ہی نیگیٹو رپورٹ حاصل کرنی پڑے گی۔ان افراد کو ابوظبی میں چار دن سے زائد قیام پر چوتھے روز بھی پی سی آر ٹیسٹ کروانا لازمی ہوگا۔ جبکہ آٹھ روز یا اس سے زائد قیام کرنے کی صورت میں انہیں آٹھویں بھی پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہو گا۔ تاہم جو افراد پی سی آر ٹیسٹ کی بجائے ڈی پی آئی ٹیسٹ کی نیگیٹو رپورٹ دکھا کر ابوظبی داخل ہوں گے، ان کی اس رپورٹ کو داخلے کے وقت جاری ہوئے 24 گھنٹے سے زائد وقت نہیں ہونا چاہیے، ورنہ ان کی یہ رپورٹ قابل قبول نہیں ہو گی۔ڈی پی آئی ٹیسٹ دکھا کر ابوظبی آنے والوں کو اپنے قیام کے تیسرے روز اور پھر ساتویں روز بھی پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہو گا۔تاہم واضح رہے کہ ایک بار ڈی پی آئی ٹیسٹ پر ابوظبی میں داخلہ ہو گیا تو اگلی بار اس ٹیسٹ پر داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔ دوسری بار داخلے کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کی رپورٹ دکھانی پڑے گی۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ پی سی آر اور ڈی پی آئی ٹیسٹ سے متعلق شرائط کا اطلاق ویکسین لگوا چکے اور ویکسین نہ لگوانے والے تمام افراد پر ہو گا۔ جو لوگ ابوظبی میں قیام کے دوران شرائط کے مطابق پی سی آ ر ٹیسٹ نہیں کروائیں گے، انہیں بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا ہوگا۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں