230

سعودی شہری نے معمولی جھگڑے پر اہلیہ کو گلا گھونٹ کر مار ڈالا

مجرم خالد الاشجعی کو عدالت نے سزائے موت سنائی، گزشتہ روز اس کا سر قلم کر دیا گیا

ازدواجی زندگی میں چھوٹی موٹی تلخیاں پیدا ہو ہی جاتی ہیں۔ زیادہ تر لوگ ان تلخیوں کو درگزر کرتے ہیں تاکہ ان کی ازدواجی زندگی متاثر نہ ہو اور اولاد پر بھی بُرا اثر نہ پڑے۔ تاہم کچھ بدبخت لوگ معمولی جھگڑے کو بھی اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور جذبات میں آ کر ایسی گھناؤنی حرکت کر بیٹھتے ہیں جو دوسرے کی زندگی بھی لے بیٹھتی ہے اور خود یہ لوگ بھی اپنے بُرے انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔ایسا ہی ایک معاملہ الجوف کے علاقے میں پیش آیا تھا۔ جہاں سعودی شہری خالد الاشجعی کی اپنی بیوی سے تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد اس نے طیش میں آ کر اپنی اہلیہ عھود الغنزی کا گلا گھونٹ ڈالا اور پھر جائے واردات سے فرار ہو گیا۔ پولیس کو اس ہولناک واردات کی اطلاع دی گئی تو روپوش قاتل کو گرفتار کر لیا گیا۔

جس نے عدالت میں اپنے جُرم کا اعتراف کیا۔عدالت نے سفاک قاتل کو اس کے سنگین جُرم پر سزائے موت سنائی تھی۔ جس کے خلاف پہلے اپیل کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں رحم کی اپیل دائر کی گئی تاہم ان اعلیٰ عدالتوں نے اپیل مسترد کر دی، جس کے بعد ایوانِ شاہی کی جانب سے مجرم کا سر قلم کرنے کا فرمان جاری ہوا۔ گزشتہ روز قصاص میدان میں مجرم کو سزائے موت دی گئی۔ واضح رہے کہ سعودیہ میں چند ماہ قبل ایک ظالم والد نے اپنے کم سن بیٹے کی جان لے لی تھی۔جس کے صلے میں عدالت نے اس شقی القلب والد کوسزائے موت سْنا ئی تھی جس پر عمل کرتے ہوئے گزشتہ ماہ اس کا سر قلم کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس قتل کی وجوہات معلومات نہیں ہو سکی تھیں۔ سعودی میڈیا کے مطابق ایک مقامی شہری نے اپنے دس سالہ بیٹے کو چھْری کے متعدد وار کر کے اس کی جان لے لی تھی۔اس ظالم والد کو جازان میں موت کی سزا سْنا دی گئی ہے جس پر عمل کرتے ہوئے گزشتہ روز اس کا سر قلم کر دیا گیا ہے۔وزارت داخلہ کے مطابق سعودی شہری محمد بن عبداللہ سویدی اپنے بیٹے عبداللہ کو دھوکے سے آبادی سے دْور لے گیا تھا۔ اور پھر اس سنسان مقام پر اسے چھْری کے کئی وار کر کے ہلاک کر ڈالا۔ ملزم اس واردات کے بعد انجان بن گیا تھا اور بیٹے کی لاش ملنے پر رونے پیٹنے کا ڈراما بھی کرتا رہا۔تاہم پولیس نے شک پڑنے پر اس سے پوچھ گچھ کی تو ساری حقیقت سامنے آگئی تھی، جس کے بعد اسے گرفتار کر کے سرکاری استغاثہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ فوجداری عدالت نے محمد سویدی کو اپنے بیٹے کی جان لینے کے جْرم میں موت کی سزا سْنائی تھی۔اس فیصلے کے خلاف مجرم نے پہلے اپیل کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی تاہم اس کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فوجداری عدالت کا سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا گیا تھا۔ 

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں