228

کویت میں جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ بنانے کے جرم میں مصری اور بھارتی نرسوں کا گروہ گرفتار

 غیرملکی (دو مصری اور ایک بھارتی) نرسوں کا گروہ جعلی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ بنانے کے جرم میں گرفتار۔

تفصیلات کے مطابق رہائشی امور کی تفتیشی عمومی انتظامیہ کے افسران نے تارکین وطن نرسوں کے ایک منظم گروہ کو گرفتار کرلیا جو الجہرا اسپتال میں 250 دینار کے عوض جعلی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ بناتے تھے۔ غیر قانونی طور پر جعلی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے افراد کو موبائل فون پر باضابطہ طور پر پیغام ارسال کیا جاتا تھا کہ” ویکسین موصول ہو چکی ہے” جس کے بدلے انہیں 250 دینار کی رقم ادا کرنا ہوتی تھی۔ اس کے بعد انہیں سرٹیفکیٹ موصول ہوجاتا تھا اور وہ باآسانی

سرٹیفکیٹ پرنٹ کرکے اور بغیر ویکسین حاصل کئے شاپنگ مالز اور عوامی مقامات میں داخل ہوسکتے تھے جو عوامی صحت اور ملک کی صحت کی صورتحال کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔ روزنامہ الرای کے ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو رہائشی امور کی جنرل ایڈمنسٹریشن میں

نرسوں کے ایک گروپ کی موجودگی کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی جو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کے لئے وزارت صحت کے ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ بیچ رہا تھا جبکہ غیر قانونی طور پر سرٹیفکیٹ وصول کرنے والا شخص بغیر ہسپتال جائے اور پیشگی ملاقات 250 دینار کی رقم ادا کرکے سرٹیفکیٹ حاصل کرسکتا تھا لہٰذا تمام تر معلومات کی بنیاد پر جاسوسوں نے اس وقت تک تلاش ، تفتیش اور نگرانی جاری رکھی جب تک وہ معلومات کی درستگی پر نہ پہنچ گئے اور اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ ملوث افراد الجہرہ اسپتال میں نرسنگ اسٹاف کے ممبر تھے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ ” سرکاری جاسوس فوری طور پر ان کے ٹھکانے پر پہنچے اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار کیا گیا گروہ مصری اور ہندوستانی نرسوں پر مشتمل ہے جنہیں تفتیش کے لئے مجاز حکام کے حوالے کردیا گیا۔ ثبوتوں کے پیش کرنے پر نرسوں کے گروپ نے اعتراف کیا کہ انہوں نے پیسوں کے عوض جعلسازی کی اور کئی غیر قانونی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ جاری کئے ہیں۔

وزارت صحت نے بتایا کہ جعلی سرٹیفکیٹ کے مقدمات کی کھوج و نگرانی کرنے اور ان کے مالکان کے خلاف ضروری قانونی اقدامات کرنے کے لئے وزارت داخلہ کے حکام کے ساتھ ہم آہنگی جاری ہے۔ اس سلسلے میں وزارت نے وزارت داخلہ کے افسران کے ساتھ ہم آہنگی کے دوران تعاون کی تعریف کی جس کے نتیجے میں اس واقعے میں شریک افراد کی گرفتاری عمل میں آئی اور تمام ضروری تحقیقات کے بعد قانونی اقدامات اٹھائے گئے۔

ذرائع: کویت اردو نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں