241

40 فیصد سے زائد ویکسینیشن سرٹیفکیٹ مسترد کر دئیے گئے

رجسٹریشن کے غلط اندراج کی وجہ سے 4ق فیصد ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ مسترد کر دئیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق کویت وزارت صحت کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن ڈیٹا کے غلط اندراج کی وجہ سے 41 فیصد ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ مسترد کیے گئے ہیں جن میں 29 فیصد سرٹیفکیٹ صاف نہ ہونے یا کیو آر کوڈ کام نہ کرنے کی وجہ سے

مسترد کیے گئے ہیں جبکہ 27 فیصد سرٹیفکیٹس اس لیے مسترد کیے گئے کیونکہ منسلک فائلیں درست نہیں تھیں اس کے علاوہ تین فیصد کو اس لئے مسترد کیا گیا کیونکہ متعلقہ سرٹیفکیٹ کویت میں منظور شدہ نہیں تھے۔ وزارت نے انکشاف کیا کہ کچھ افراد ذاتی ڈیٹا غلط درج کرتے ہیں جو

ثبوت کے سرٹیفکیٹ سے میل نہیں کھاتے (جیسا کہ نام، تاریخ پیدائش، قومیت یا پاسپورٹ نمبر) یا ویکسی نیشن کا ڈیٹا غلط درج کرتے ہیں (جیسا کہ ویکسین تیار کنندہ کا نام، ویکسین لگوانے کی تاریخ کرنا، بیچ نمبر یا پہلی دو خوراکوں کے لیے ڈیٹا داخل کرنے میں ناکامی)۔ وزارت نے رجسٹریشن کے عمل کے دوران ڈیٹا کو درست ہونے اور اسے سائٹ پر اپ لوڈ کرنے سے پہلے اس کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ درخواست کو جلد از جلد منظور کیا جائے۔ دریں اثنا وزارت صحت کی طرف سے تقریباً دو سالوں سے COVID-19 وبائی امراض کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ

ویکسی نیشن کی شرح میں اضافے اور ملک میں بوسٹر خوراک کی حالیہ مانگ کے باوجود متعدد شہریوں اور رہائشیوں نے ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ پر مخصوص ڈیٹا کو شامل کرنے یا اس میں ترمیم کرنے سے متعلق اپنے لین دین کو مکمل کرنے کے لیے طویل انتظار کے بارے میں شکایت کی جیسا کہ لوگوں کی بڑی تعداد عمل کی وجہ سے لین دین کو مکمل کیے بغیر واپس لوٹ آتے ہیں۔ ریاستی اداروں میں لین دین کو مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ

ممالک کے درمیان سفر کرنے کے لیے ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن مشرف سینٹر میں عملے کی کمی سرٹیفکیٹس پر کسی بھی ڈیٹا کو شامل کرنے، اس میں ترمیم کرنے یا ان کی رجسٹریشن اور منظوری کو مکمل کرنے میں تاخیر کا سبب بن رہی ہے۔ اہل ملازمین کی طرف سے خدمات انجام دینے کے لیے صارفین کو اپنی باری کا طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ویکسین لگوانے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کو پورا کرنے کے لیے اس محکمے میں ملازمین کی تعداد میں اضافہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ بہت سے افراد لین دین مکمل کیے بغیر متعلقہ ویب سائٹ چھوڑ جاتے ہیں اور یہ کہ ویب سائٹ بعض اوقات سرٹیفکیٹس کی منظوری یا ان میں ترمیم کرنے میں تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے خامیوں کو الیکٹرانک طور پر جاننے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا

ویکسین کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والوں کو بعض اوقات ویکسی نیشن مرکز جانے کے لیے صرف اس لیے کہا جاتا ہے کہ تمام دستاویزات درست ہیں اور ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔ یہ جاننے کے لیے انہیں مرکز کچھ دیر انتظار کرنا پڑتا ہے کہ آیا سرٹیفکیٹ منظور ہوگا یا نہیں۔

ذرائع: کویت اردو نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں