450

کویت میں گِنے چُنے ہی پاکستانی رہ گئے

سینٹرل ایڈمنسٹریشن آف سٹیٹسٹکس نے سال 2021 کی کویت میں مقیم مختلف قومیتوں کی لیبر شرح تفصیلات جاری کر دیں۔

تفصیلات کے مطابق ستمبر 2021 تک سینٹرل ایڈمنسٹریشن آف سٹیٹسٹکس کے تیار کردہ اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ مصری لیبر فورس ہندوستانی اور کویتی لیبر فورس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پہلے نمبر پر ہے جس میں کل 456,600 مرد اور خواتین کارکن ہیں جو کہ کویت کی کل افرادی قوت کا 24 فیصد بنتا ہے۔ ہندوستانی لیبر دوسرے نمبر پر ہے جو کہ کل 451,300 مرد اور خواتین ورکرز کے ساتھ 23.7 فیصد کی شرح کے ساتھ اس کے بعد کویتی لیبر کل 424,000 شہریوں کے ساتھ 22.3 فیصد کی شرح کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنگلہ دیشی مزدور چوتھے نمبر پر ہیں جن میں کل 161,100 ورکرز ہیں جو کہ کل افرادی قوت کا 8.5 فیصد ہیں۔ اس کے بعد پاکستانی ورکرز کل 70,300 جبکہ کل لیبر مارکیٹ کا 3.7 فیصد پھر فلپائنی ورکرز چھٹے نمبر پر ہیں جن کی مجموعی تعداد 66,000 تعداد کے ساتھ 3.5 فیصد پر ہیں، شامی باشندے ساتویں نمبر پر ہیں، کل 63,200 کے ساتھ روزگار کی شرح 3.3 فیصد ہے۔

آٹھویں نمبر پر نیپالی، کل 40,100 مرد اور خواتین کارکنان کے ساتھ، 2.1 فیصد کی شرح سے، اس کے بعد اردنی، کل 25،200 مرد اور خواتین کارکنوں کے ساتھ، 1.3 فیصد کے ساتھ، اور آخر میں، ایرانی، 1.1 فیصد کی شرح سے کل 20,300 مرد اور خواتین کارکنان جبکہ دیگر قومیتوں کی تعداد 6.6 فیصد کی شرح سے 125,100 مرد اور خواتین کارکنان تھیں۔

ذرائع: کویت اردو نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں